كِتَابُ الْأَضَاحِي بَابُ نَهْيِ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ وَهُوَ مُرِيدُ التَّضْحِيَةِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ شَعْرِهِ، أَوْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا صحيح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ الْجُنْدَعِيِّ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ
کتاب: قربانی کے احکام ومسائل جب ذوالحجہ کا(پہلا) عشرہ شروع ہوجائے تو جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،اس کے لیے بال اور ناخن کٹوانے کی ممانعت سعید بن ابی ہلال نے عمرو بن مسلم جندعی سے روایت کی کہ حضرت سعید بن مسیب نے انھیں خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں بتایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا(پھر) ان سب کی حدیث کے ہم معنی (حدیث بیان کی۔)