كِتَابُ الْأَضَاحِي بَابُ نَهْيِ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ وَهُوَ مُرِيدُ التَّضْحِيَةِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ شَعْرِهِ، أَوْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا صحيح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ تَرْفَعُهُ قَالَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَهُ أُضْحِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفُرًا
کتاب: قربانی کے احکام ومسائل جب ذوالحجہ کا(پہلا) عشرہ شروع ہوجائے تو جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،اس کے لیے بال اور ناخن کٹوانے کی ممانعت اسحاق بن ابراہیم نے کہا:سفیان نے ہمیں خبر دی ،کہا:مجھے عبدالرحمان بن حمید بن عبدالرحمان بن عوف نے سعید بن مسیب سے حدیث بیان کی،انھوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مرفوعاً روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" جب عشرہ(ذوالحجہ) شروع ہوجائے تو جس شخص کے پاس قر بانی ہو اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتاہو،وہ اپنے بال اتارے نہ ناخن تراشے۔"