كِتَابُ الْأَضَاحِي بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ أَبِي سِنَانٍ و قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مُحَارِبٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ أَبُو سِنَانٍ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا
کتاب: قربانی کے احکام ومسائل ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا ابو سنان ضرار بن مرہ نے محارب بن دثار سے،انھوں نے عبداللہ بن بریدہ سے،انھوں نے اپنے والد سے روایت کی،کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں نے(پہلے) تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیاتھا،(اب) تم زیارت کرلیا کرو اور میں نے(پہلے) تم کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا،(اب)تمہارا جب تک کے لئے جی چاہے قربانی کاگوشت رکھو۔اور میں نے تم کو مشک کے علاوہ(ہر قسم کے برتن میں) نبیذ پینے سے منع یا تھا،اب تم ہر طرح کے برتنوں میں پیو اور نشہ آور چیز نہ پیو۔"