صحيح مسلم - حدیث 511

كِتَابُ الْإِيمَانِ بَابُ شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَالِبٍ وَالتَّخْفِيفِ عَنْهُ بِسَبَبِهِ صحيح حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَنْصُرُكَ فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنَ النَّارِ، فَأَخْرَجْتُهُ إِلَى ضَحْضَاحٍ».

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 511

کتاب: ایمان کا بیان نبی اکرم ﷺ کی ابو طالب کے لیے سفارش اور آپ کی وجہ سے ان کے لیے (عذاب میں ) تخفیف سفیان ( بن عیینہ ) نے عبد الملک بن عمیر سے حدیث سنائی، انہوں نے عبد اللہ بن حارث سے روایت کی ، کہا: میں نے حضرت عباس ﷜ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! ابو طالب ہر طرف سے آپ کی حفاظت کرتے تھے ، آپ کی مدد کرتے تھے اور آپ کی خاطر (مخالفین پر) غصہ کرتے تھے توکیا اس سے ان کو کچھ نفع ہوا؟ آپ نے فرمایا:’’ہاں، میں نے ان کو آگ کی اتھاہ گہرائیوں میں پایا تو ان کم گہری آگ تک نکال لایا۔‘‘