كِتَابُ الْإِيمَانِ بَابُ شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَالِبٍ وَالتَّخْفِيفِ عَنْهُ بِسَبَبِهِ صحيح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ، وَلَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ»
کتاب: ایمان کا بیان نبی اکرم ﷺ کی ابو طالب کے لیے سفارش اور آپ کی وجہ سے ان کے لیے (عذاب میں ) تخفیف ابو عوانہ نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل سے اور انہوں نے حضرت عباس بن عبدالمطلب سے روایت کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کےرسول! کیا آپ نے ابو طالب کو کچھ نفع پہنچایا؟ وہ ہر طرف سے آپ کا دفاع کرتے تھے اور آپ کی خاطر غضب ناک ہوتے تھے ۔آپ نےجواب دیا: ’’ہاں، وہ کم گہری آگ میں ہیں ( جو ٹخنوں تک آتی ہے ) اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے ۔ ‘‘