صحيح مسلم - حدیث 5069

كِتَابُ الْأَضَاحِي بَابُ وَقْتِهَا صحيح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ ضَحَّى خَالِي أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً مِنْ الْمَعْزِ فَقَالَ ضَحِّ بِهَا وَلَا تَصْلُحُ لِغَيْرِكَ ثُمَّ قَالَ مَنْ ضَحَّى قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 5069

کتاب: قربانی کے احکام ومسائل قربانی کا وقت مطرف نے عامر(شعبی) سے ،انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ،کہا: میرے ماموں حضرت ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز سے پہلے قربانی کردی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" یہ گوشت کی ایک(عام) بکری ہے(قربانی کی نہیں۔)"انھوں(حضرت ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے عرض کی:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم اس کی قربانی کردو اور یہ تمہارے سوا کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے۔"پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جس شخص نے نماز سے پہلے ذبح کیا اس نے اپنے(کھانے کے) لئے ذبح کیا ہے اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا تو اس کی قر بانی مکمل ہوگئی اوراس نے مسلمانوں کے طریقے کو پا لیا ہے۔"