صحيح مسلم - حدیث 5050

كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ بَابُ إِبَاحَةِ مَا يُسْتَعَانُ بِهِ عَلَى الِاصْطِيَادِ وَالْعَدُوِّ، وَكَرَاهَةِ الْخَذْفِ صحيح حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: رَأَى عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: لَا تَخْذِفْ، «فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ - أَوْ قَالَ - يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ، فَإِنَّهُ لَا يُصْطَادُ بِهِ الصَّيْدُ، وَلَا يُنْكَأُ بِهِ الْعَدُوُّ، وَلَكِنَّهُ يَكْسِرُ السِّنَّ، وَيَفْقَأُ الْعَيْنَ»، ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: «أُخْبِرُكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ أَوْ يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ ثُمَّ أَرَاكَ تَخْذِفُ، لَا أُكَلِّمُكَ كَلِمَةً كَذَا وَكَذَا»،

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 5050

کتاب: شکار کرنے،ذبح کیےجانے والے اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت کھایا جاسکتا ہے شکار میں اور دشمن(کو نشانہ بنانے) کے لئے کسی چیز سے مدد لینا جائز ہے۔اور کنکریاں مارنا مکروہ ہے معاذ عنبری نے کہا:ہمیں کہمس نے ابن بریدہ سے حدیث بیان کی،انھوں نے کہا:حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو کنکر سے(کسی چیز کو) نشانہ بناتے ہوئے دیکھا تو کہا:کنکر سے نشانہ مت بناؤ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے۔یا کہا۔کنکر مارنے سے منع فرماتے تھے،کیونکہ اس کے ذریعے سے نہ کوئی شکار مارا جاسکتا ہے۔نہ دشمن کو(پیچھے) دھکیلا جاسکتاہےیہ (صرف ) دانت توڑتاہے یا آنکھ پھوڑتا ہے۔اس کے بعد انھوں نے اس شخص کو پھر کنکر مارتے دیکھا تو اس سے کہا:میں تمھیں بتاتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے یا(کہا:) آپ اس سے منع فرماتے تھے،پھر میں تمھیں دیکھتا ہوں کہ تم کنکر مار رہے ہو!میں اتنا اتنا(عرصہ) تم سے ایک جملہ تک نہ کہوں گا(بات تک نہ کروں گا)