كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ صحيح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي فِي غَائِطٍ مَضَبَّةٍ، وَإِنَّهُ عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي؟ قَالَ: فَلَمْ يُجِبْهُ، فَقُلْنَا: عَاوِدْهُ، فَعَاوَدَهُ، فَلَمْ يُجِبْهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ نَادَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَالَ: «يَا أَعْرَابِيُّ، إِنَّ اللهَ لَعَنَ - أَوْ غَضِبَ - عَلَى سِبْطٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَمَسَخَهُمْ دَوَابَّ، يَدِبُّونَ فِي الْأَرْضِ، فَلَا أَدْرِي، لَعَلَّ هَذَا مِنْهَا، فَلَسْتُ آكُلُهَا، وَلَا أَنْهَى عَنْهَا»
کتاب: شکار کرنے،ذبح کیےجانے والے اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت کھایا جاسکتا ہے سانڈے کے گو شت کا جواز ابوعقیل دورقی نے کہا:ہمیں ابو نضرہ نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔میں سانڈوں سے بھرے ہوئے ایک نشیبی علاقے میں رہتا ہوں اور میرے گھر والوں کی عام غذا یہی ہے۔آپ نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا،ہم نے اس سے کہا:دوبارہ عرض کرو،اس نے دوبارہ عرض کی،مگر آپ نے تین بار(دہرانے پر بھی )کوئی جواب نہ دیا،پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آواز دی اور فرمایا:"اے اعرابی! اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کسی گروہ پر لعنت کی یا غضب فرمایا اور ان کو زمین پر چلنے والے جانوروں کی شکل میں مسخ کردیا۔مجھے علم نہیں،شاید یہ انھی جانوروں میں سے ہو،(جن کی شکل میں ان لوگوں کو مسخ کیا گیا تھا) اس لیے نہ اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس سے روکتا ہوں۔"