كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ صحيح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّةٍ، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ - أَوْ فَمَا تُفْتِينَا؟ - قَالَ: «ذُكِرَ لِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ»، فَلَمْ يَأْمُرْ وَلَمْ يَنْهَ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ عُمَرُ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ، وَإِنَّهُ لَطَعَامُ عَامَّةِ هَذِهِ الرِّعَاءِ، وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لَطَعِمْتُهُ، إِنَّمَا عَافَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
کتاب: شکار کرنے،ذبح کیےجانے والے اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت کھایا جاسکتا ہے سانڈے کے گو شت کا جواز داود نے ابو نضرہ سے ،انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا:ایک شخص نے عرض کی:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم سانڈوں سے بھری ہوئی سرزمین میں رہتے ہیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟یا کہا:آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ مجھے بتایاگیا کہ بنو اسرائیل کی ایک امت(بڑی جماعت) مسخ کر(کے رینگنے والے جانوروں میں تبدیل کر)دی گئی تھی۔"(اس کے بعد) آپ نے نہ اجازت دی اور نہ منع فرمایا۔ حضرت ابوسعید(خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا:پھر بعد کا عہد آیا توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:اللہ عزوجل اس کے ذریعے سے ایک سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے۔یہ عام چرواہوں کی غذا ہے ،اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے کھاتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نامرغوب محسوس کیا تھا۔(اسے حرام قرار نہیں دیا تھا۔)