كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ صحيح و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الضَّبِّ فَقَالَ لَا تَطْعَمُوهُ وَقَذِرَهُ وَقَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَرِّمْهُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ فَإِنَّمَا طَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ مِنْهُ وَلَوْ كَانَ عِنْدِي طَعِمْتُهُ
کتاب: شکار کرنے،ذبح کیےجانے والے اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت کھایا جاسکتا ہے سانڈے کے گو شت کا جواز ابو زبیر نے کہا:میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سانڈے کے متعلق سوال کیا،انھوں نے کہا:اسے مت کھاؤ۔اور اس سے اظہار کراہت کیا اور بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام نہیں کیا۔بلا شبہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے(بھی) کو نفع پہنچاتا ہے،یہ عام چرواہوں کی غذا ہے۔(حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مزید کہا:) اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے کھا لیتا۔