كِتَابُ الْإِيمَانِ بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} صحيح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] «يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللهِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللهِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللهِ شَيْئًا، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ، سَلِينِي بِمَا شِئْتِ لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللهِ شَيْئًا»،
کتاب: ایمان کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔ ابن مسیب اور ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ نے کہاکہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت اتاری گئی :’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کوڈرائیں ‘‘ تو آپ نے فرمایا:’’ اے قریش کےلوگو!اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو، میں اللہ تعالیٰ کے (فیصلے کے ) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا، اے عبد المطلب کے بیٹے عباس! میں اللہ کے( فیصلے کے ) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا ، اے اللہ کے رسول کی پھوپھی صفیہ ! میں اللہ کے (فیصلے کے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا، اے اللہ کےرسول کے بیٹی فاطمہ ! مجھ سے (میرے مال میں سے ) جو چاہو مانگ لو، میں اللہ کے (فیصلےکے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا ۔‘‘