كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ بَابُ الصَّيْدِ بِالْكِلَابِ الْمُعَلَّمَةِ والرمي صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ، قَالَ: «إِذَا رَمَيْتَ سَهْمَكَ، فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قَتَلَ فَكُلْ، إِلَّا أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ أَوْ سَهْمُكَ»
کتاب: شکار کرنے،ذبح کیےجانے والے اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت کھایا جاسکتا ہے باب: سدھائے ہوئے کتوں اور تیر اندازی کےذریعے سے شکار کرنے کاحکم عبداللہ بن مبارک نے کہا: ہمیں عاصم نے شعبی سے خگر دی،انھوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ،کہا: کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنا (شکاری) کتا چھوڑے، تو اللہ کا نام لے (کر چھوڑ) پھر اگر وہ تیرے شکار کو روک لے اور تو اس کو زندہ پائے، تو اس کو ذبح کر اور اگر مار ڈالے اور کھائے نہیں، تو تو اس کو کھا لے اور اگر تیرے کتے کے ساتھ دوسرا کتا ملے اور جانور مارا جا چکا ہو، تو اس کو مت کھا کیونکہ معلوم نہیں کس نے اس کو مارا۔ اور جو تو اللہ کا نام لے کر تیر مارے پھر اگر تیرا شکار (تیر کھا کر) ایک دن تک غائب رہے، اس کے بعد تو اس میں اپنے تیر کے سوا اور کسی مار کا نشان نہ پائے، تو اگر تیرا جی چاہے تو اسے کھا لے اور اگر تو اس کو پانی میں ڈوبا ہوا پائے تو مت کھا۔کیونکہ تمھیں معلوم نہیں کہ وہ پانی سےمرا ہے یا تمھارے تیر سے۔"