كِتَابُ الْإِمَارَةِ بَابُ مُرَاعَاةِ مَصْلَحَةِ الدَّوَابِّ فِي السَّيْرِ، وَالنَّهْيِ عَنِ التَّعْرِيسِ فِي الطَّرِيقِ صحيح حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ، فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَظَّهَا مِنَ الْأَرْضِ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ، فَأَسْرِعُوا عَلَيْهَا السَّيْرَ، وَإِذَا عَرَّسْتُمْ بِاللَّيْلِ، فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ»
کتاب: امور حکومت کا بیان سفرکے دوران جانوروں کا خیال رکھنا اور رات کا آخری حصہ گزر گاہ پر گزارنے کی ممانعت جریر نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم شادابی (کے زمانے) میں سفر کرو تو زمین میں سے اونٹوں کو ان کا حصہ دو اور جب تم خشک سالی (یا قحط زدہ زمین) میں سفر کرو تو اس زمین پر سے جلدی گزرو اور جب تم رات کے آخری حصے میں منزل کرو تو گزر گاہ سے ہٹ جاؤ کیونکہ رات کو وہ (راستے کی) جگہ حشرات الارض کا ٹھکانا ہوتی ہے،" (وہاں اپنی خوراک کے حصول کے لیے آتے ہیں۔)