صحيح مسلم - حدیث 4935

كِتَابُ الْإِمَارَةِ بَابُ فَضْلِ الْغَزْوِ فِي الْبَحْرِ صحيح حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ، وَهِيَ خَالَةُ أَنَسٍ، قَالَتْ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ عِنْدَنَا، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ: «أُرِيتُ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ»، فَقُلْتُ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «فَإِنَّكِ مِنْهُمْ»، قَالَتْ: ثُمَّ نَامَ، فَاسْتَيْقَظَ أَيْضًا وَهُوَ يَضْحَكُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، فَقُلْتُ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ»، قَالَ: فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بَعْدُ، فَغَزَا فِي الْبَحْرِ فَحَمَلَهَا مَعَهُ، فَلَمَّا أَنْ جَاءَتْ قُرِّبَتْ لَهَا بَغْلَةٌ فَرَكِبَتْهَا فَصَرَعَتْهَا، فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا، حماد بن زید نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا سے روایت کی، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں، کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہمارے ہاں قیلولہ فرمایا، پھر آپ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ قربان! آپ کے ہنسنے کا سبب کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: " مجھے میری امت کا ایک گروہ دکھایا گیا جو سمندر کی پیٹھ پر سوار ہیں، جیسے بادشاہ اپنے اپنے تخت پر بیٹھے ہوں۔" میں نے عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔ آپ نے فرمایا: "تم انہی میں ہو۔" حضرت ام حرام رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ پھر سو گئے اور آپ دوبارہ جاگے تو بھی آپ ہنس رہے تھے۔ میں نے (پھر) آپ سے سوال کیا تو آپ نے اسی طرح فرمایا۔ میں نے عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔ آپ نے فرمایا: "تم اولین لوگوں میں سے ہو۔" کہا: پھر اس کے بعد حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کر لیا، انہوں نے سمندر کے راستے جہاد کیا اور حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ لے گئے، جب وہ پہنچیں تو ان کے پاس ایک خچر لائی گئی، وہ اس پر سوار ہوئیں لیکن اس نے ان کو گرا دیا جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی۔ (اور اس طرح انہوں نے شہادت پائی۔)

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 4935

کتاب: امور حکومت کا بیان سمندر میں (سفر)کر کے جہاد کرنے کی فضیلت لیث نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے ابن حبان سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنی خالہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب ہی سو گئے، پھر آپ مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: "مجھے میری امت کے کچھ لوگ دکھائے گئے جو اس بحر اخضر پر سوار ہو کر جا رہے ہیں۔" پھر حماد بن زید کی حدیث کی طرح بیان کیا۔