صحيح مسلم - حدیث 4913

كِتَابُ الْإِمَارَةِ بَابُ ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ صحيح حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: أَيْنَ أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ قُتِلْتُ؟ قَالَ: «فِي الْجَنَّةِ»، فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، وَفِي حَدِيثِ سُوَيْدٍ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 4913

کتاب: امور حکومت کا بیان شہید کے لیے جنت کا ثبوت سعید بن عمرو اشعثی اور سعید بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی: ۔۔ الفاظ سعید کے ہیں ۔۔ کہا: ہمیں سفیان نے عمرو سے خبر دی: انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک شخص نے عرض کی: اللہ کے رسول! اگر میں (اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے) شہید کر دیا جاؤں تو میں کہاں ہوں گا؟ فرمایا: "جنت میں۔" اس شخص کے ہاتھ میں جو کھجوریں تھیں اس نے ان کو پھینکا، پھر لڑا حتی کہ شہید ہو گیا۔ اور سوید کی روایت میں یہ ہے: ایک شخص نے اُحد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی۔