كِتَابُ الْإِيمَانِ بَابُ اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ،، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا»
کتاب: ایمان کا بیان بنی ﷺنے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے ہو جنت کی سفارش کرنے والا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہونگے ابو صالح نےحضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہر نبی کی ایک دعا ایسی ہے جو (یقینی طور پر )قبول کی جانے والی ہے ۔ ہر نبی نےاپنی وہ دعا جلدی مانگ لی )جبکہ میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ کر لی ہے ، چنانچہ یہ دعا ان شاء اللہ میری امت کے ہر اس فرد کو پہنچے گی جو ا للہ کے ساتھ کسی کوشریک نہ کرتے ہوئے فوت ہوا۔‘‘