كِتَابُ الْإِيمَانِ بَابُ اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ صحيح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيَّ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ لِكَعْبِ الْأَحْبَارِ: إِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُوهَا، فَأَنَا أُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ» فَقَالَ كَعْبٌ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «نَعَمْ»
کتاب: ایمان کا بیان بنی ﷺنے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے ہو جنت کی سفارش کرنے والا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہونگے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی کہ عمرو بن ابی سفیان ثقفی نےخبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ نے کعب احبار سے کہا، بلاشبہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:’’ ہر نبی کی ایک (یقینی) دعا ہے جو وہ کرتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ میں اپنی دعا قیامت کےدن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ رکھوں۔‘‘ اس پر کعب نےحضرت ابو ہریرہ سے پوچھا:آپ نے یہ فرمان (براہ راست ) رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا؟ ابو ہریرہ نےجواب دیا: ہاں !