كِتَابُ الْإِمَارَةِ بَابُ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ كُفِّرَتْ خَطَايَاهُ إِلَّا الدَّيْنَ صحيح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي؟ بِمَعْنَى حَدِيثِ الْمَقْبُرِيِّ
کتاب: امور حکومت کا بیان جو شخص اللہ کی راہ میں شہید ہو قرض کے علاوہ اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں عمرو بن دینار اور محمد بن عجلان نے محمد بن قیس سے روایت کی، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے والد حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، ان (عمرو اور ابن عجلان) میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی سے کچھ زیادہ بیان کرتا ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ منبر پر تھے، اس نے کہا: آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں اپنی تلوار سے وار کروں؟ (کافر کو قتل کروں، پھر شہید کر دیا جاؤں، آگے) مقبری کی حدیث کے ہم معنی (حدیث بیان کی۔)