صحيح مسلم - حدیث 4801

كِتَابُ الْإِمَارَةِ بَابُ وُجُوبِ الْإِنْكَارِ عَلَى الْأُمَرَاءِ فِيمَا يُخَالِفُ الشَّرْعَ، وَتَرْكِ قِتَالِهِمْ مَا صَلَّوْا، وَنَحْوِ ذَلِكَ صحيح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنْ مُعَاذٍ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّهُ يُسْتَعْمَلُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ، فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: «لَا، مَا صَلَّوْا»، أَيْ مَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ وَأَنْكَرَ بِقَلْبِهِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 4801

کتاب: امور حکومت کا بیان خلاف شرع امور میں حکام کے سامنے انکار کرنے کا وجوب اور جب تک وہ نماز پڑھنے رہیں ان خلاف جنگ کی ممانعت اور اس طرح کے دیگر امور ہشام دستوائی نے قتادہ سے روایت کی، کہا: ہمیں حسن نے ضبہ بن محصب عنزی سے حدیث بیان کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "تم پر ایسے امیر لگائے جائیں گے جن میں تم اچھائیاں بھی دیکھو گے اور برائیاں بھی، جس نے (برے کاموں کو) ناپسند کیا، وہ بری ہو گیا، جس نے انکار کیا وہ بچ گیا، مگر جس نے پسند کیا اور پیچھے لگا (وہ بری ہوا نہ بچ سکا۔)" صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں، آپ نے فرمایا: "نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد تھا جس نے دل سے ناپسند کیا اور دل سے برا جانا