كِتَابُ الْإِمَارَةِ بَابُ تَحْرِيمِ هَدَايَا الْعُمَّالِ صحيح حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ - رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ - عَلَى الصَّدَقَةِ، فَجَاءَ بِالْمَالِ، فَدَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَذَا مَالُكُمْ، وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفَلَا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ فَتَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْكَ أَمْ لَا؟»، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ
کتاب: امور حکومت کا بیان عاملوں(سرکاری ملازموں کو ملنے والے )ھدیوں کی حرمت معمر نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اَزد کے ابن لتبیہ نامی ایک شخص کو زکاۃ (کی وصولی) پر عامل بنایا، وہ کچھ مال لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور کہا: یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: "تم اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھے، پھر دیکھتے کہ تمہیں ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟" پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، پھر سفیان (بن عیینہ) کی حدیث کی طرح بیان کیا