كِتَابُ الْإِمَارَةِ بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ صحيح وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: دَخَلَ ابْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَهُوَ وَجِعٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الْأَشْهَبِ، وَزَادَ قَالَ: أَلَّا كُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ؟ قَالَ: مَا حَدَّثْتُكَ، أَوْ لَمْ أَكُنْ لِأُحَدِّثَكَ
کتاب: امور حکومت کا بیان عادل حاکم کی فضیلت ‘ظالم حاکم کی سزا ‘رعایہ طے ساتھ نرمی کی تلقین‘اور ان پر مشقت ڈالنے کی ممانعت یونس نے حضرت حسن بصری سے روایت کی، کہا: ابن زیاد حضرت معقل رضی اللہ عنہ کے پاس گیا وہ اس وقت (بیمار تھے اور) درد میں مبتلا تھے، جیسے ابو اشہب کی حدیث ہے اور انہوں نے اضافہ کیا: اس (ابن زیاد) نے کہا: آپ نے آج سے پہلے مجھے یہ حدیث کیوں نہیں بیان کی؟ حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تمہیں کبھی حدیث نہیں سنائی، (تم نے حدیث کا سماع ہی نہیں کیا) یا فرمایا: میں تمہیں حدیث بیان نہیں کیا کرتا تھا (حدیث میں تمہارا استاد نہ تھا