صحيح مسلم - حدیث 4713

كِتَابُ الْإِمَارَةِ بَابُ الِاسْتِخْلَافِ وَتَرْكِهِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَضَرْتُ أَبِي حِينَ أُصِيبَ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ، وَقَالُوا: جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا، فَقَالَ: رَاغِبٌ وَرَاهِبٌ، قَالُوا: اسْتَخْلِفْ، فَقَالَ: «أَتَحَمَّلُ أَمْرَكُمْ حَيًّا وَمَيِّتًا، لَوَدِدْتُ أَنَّ حَظِّي مِنْهَا الْكَفَافُ، لَا عَلَيَّ وَلَا لِي، فَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي - يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ - وَإِنْ أَتْرُكْكُمْ فَقَدْ تَرَكَكُمْ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حِينَ ذَكَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 4713

کتاب: امور حکومت کا بیان کسی کو اپنا جانشین مقرر کرنے اور نہ کرنے کا بیان ہشام کے والد (عروہ) نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب میرے والد (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) زخمی ہوئے تو میں ان کے پاس موجود تھا، لوگوں نے ان کی تعریف کی اور کہا: "اللہ آپ کو اچھی جزا دے!" انہوں (عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا: میں (بیک وقت) رغبت رکھنے والا اور ڈرنے والا ہوں۔ لوگوں نے کہا: آپ کسی کو اپنا (جانشیں) بنا دیجیے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں زندگی میں بھی تمہارے معاملات کا بوجھ اٹھاؤں اور مرنے کے بعد بھی؟ مجھے صرف یہ خواہش ہے کہ (قیامت کے روز) اس خلافت سے میرے حصے میں یہ آ جاے کہ (حساب کتاب) برابر سرابر ہو جائے۔ نہ میرے خلاف ہو، نہ میرے حق میں (چاہے انعام نہ ملے، مگر سزا سے بچ جاؤں) اگر میں جانشیں مقرر کروں تو انہوں نے مقرر کیا جو مجھ سے بہتر تھے، یعنی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور اگر میں تمہیں ایسے ہی چھوڑ دوں تو انہوں نے تمہیں (جانشیں مقرر کیے بغیر) چھوڑ دیا جو مجھ سے (بہت زیادہ) بہتر تھے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو میں نے جان لیا کہ وہ جانشیں مقرر نہیں کریں گے