صحيح مسلم - حدیث 4656

كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ صحيح حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جُنْدُبًا، يَقُولُ: " أَبْطَأَ جِبْرِيلُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: قَدْ وُدِّعَ مُحَمَّدٌ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى} [الضحى: 2]

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 4656

کتاب: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہﷺ کے اختیار کردہ طریقے مشرکو ں اور منافقوں کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کوپہنچنے والی ایذاء سفیان بن اسود بن قیس سے روایت کی کہ انہوں نے جندب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام کی آمد میں تاخیر ہو گئی، مشرکین کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو الوداع کہہ دیا گیا۔ تو اللہ عزوجل نے یہ نازل فرمایا: "قسم ہے دھوپ چڑھتے وقت کی، اور قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے! (اے نبی!) آپ نے رب نے نہ آپ کو رخصت کیا اور نہ بیزار ہوا