كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ صحيح وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، فَدَعَا عَلَى سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ»، فَأُقْسِمُ بِاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى عَلَى بَدْرٍ، قَدْ غَيَّرَتْهُمُ الشَّمْسُ وَكَانَ يَوْمًا حَارًّا
کتاب: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہﷺ کے اختیار کردہ طریقے مشرکو ں اور منافقوں کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کوپہنچنے والی ایذاء زہیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابواسحاق نے عمرو بن میمون سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے قریش کے چھ آدمیوں کے خلاف بد دعا کی، ان میں ابوجہل، امیہ بھی خلف، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط تھے۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں: میں نے ان کو بدر (کے میدان) میں اوندھے پڑے ہوئے دیکھا، دھوپ نے ان (کے لاشوں) کو متغیر کر دیا تھا اور وہ ایک گرم دن تھا