كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ صحيح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَزَادَ وَكَانَ يَسْتَحِبُّ ثَلَاثًا يَقُولُ: «اللهُمَّ، عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللهُمَّ، عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللهُمَّ، عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ» ثَلَاثًا، وَذَكَرَ فِيهِمُ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، وَلَمْ يَشُكَّ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَنَسِيتُ السَّابِعَ
کتاب: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہﷺ کے اختیار کردہ طریقے مشرکو ں اور منافقوں کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کوپہنچنے والی ایذاء سفیان نے ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ آپ تین بار (دعا کرنا) پسند فرماتے تھے، اور آپ نے تین بار فرمایا: "اے اللہ! قریش پر گرفت فرما، اے اللہ! قریش پر گرف فرما، اے اللہ! قریش پر گرفت فرمااور اس میں ولید بن عتبہ اور امیہ بن خلف کا نام لیا (ابی بن خلف اور امیہ بن خلف کے ناموں میں) شک نہیں کیا، ابواسحاق نے کہا: ساتواں شخص میں بھول گیا