صحيح مسلم - حدیث 4609

كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ بَابُ كُتُبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُلُوكِ الْكُفَّارِ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ صحيح حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى كِسْرَى، وَإِلَى قَيْصَرَ، وَإِلَى النَّجَاشِيِّ، وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ تَعَالَى»، وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 4609

کتاب: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہﷺ کے اختیار کردہ طریقے نبی اکرم ﷺ نے کافروں کے باد شاہوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے خطوط لکھ بھیجے عبدالاعلیٰ نے ہمیں سعید (بن ابی عروبہ) سے حدیث بیان کی، انہوں نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ، قیصر، نجاشی اور ہر متکبر بادشاہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہوئے خطوط لکھ بھیجے، اور اس سے وہ نجاشی مراد نہیں جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی۔ (اس کے بعد والے نجاشی کی طرف خط لکھا