كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِالتَّيْسِيرِ، وَتَرْكِ التَّنْفِيرِ صحيح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ: «وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا
کتاب: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہﷺ کے اختیار کردہ طریقے آسانی پیدا کرنے اور دور نہ بھاگنے کا حکم عمرو اور زید بن ابی انیسہ دونوں نے سعید بن ابی بردہ سے روایت کی، انہوں نے اپنے والد سے (آگے) اپنے دادا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شعبہ کی حدیث کی طرح روایت کی۔ اور زید بن ابی انیسہ کی حدیث میں یہ نہیں ہے: "دونوں آپس میں اتفاق رکھنا اور اختلاف نہ کرنا