كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ بَابُ تَأْمِيرِ الْإِمَامِ الْأُمَرَاءَ عَلَى الْبُعُوثِ، وَوَصِيَّتِهِ إِيَّاهُمْ بِآدَابِ الْغَزْوِ وَغَيْرِهَا صحيح وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا، أَوْ سَرِيَّةً دَعَاهُ فَأَوْصَاهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ
کتاب: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہﷺ کے اختیار کردہ طریقے بھیجے گے دستو ں پر امام کا امیر مقرر کرنا اور ان کو جنگ کے آداب وغیرہ کی تلقین کرنا عبدالصمد بن عبدالوارث نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، کہا: مجھے علقمہ بن مرثد نے حدیث بیان کی کہ انہیں سلیمان بن بریدہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی امیر کو یا چھوٹے لشکر کو روانہ کرتے تو آپ اسے بلاتے اور تلقین فرماتے ۔۔ پھر انہوں (شعبہ) نے سفیان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی