صحيح مسلم - حدیث 4510
كِتَابُ اللُّقَطَةِ بَابٌ فِي لُقَطَةِ الْحَاجِّ صحيح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ آوَى ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ، مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا
ترجمہ الادب المفرد - حدیث 4510
کتاب: کسی کو ملنے والی ایسی چیز جس کے مالک کا پتہ نہ ہو حاجیوں کی گری پڑی چیز کا حکم حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: "جس نے (کسی کے) بھٹکتے ہوئے جانور (اونٹنی) کو اپنے پاس رکھ لیا ہے تو وہ (خود) بھٹکا ہوا ہے جب تک اس کی تشہیر نہیں کرتا