صحيح مسلم - حدیث 4504

كِتَابُ اللُّقَطَةِ بَابُ مضعرِفَةِ العِفَاصِ وَالوِكَاءِوَ حَكَمِ ضَالَةش الغنَمَ وَالِابِلِ صحيح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: «عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ، فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ كُلْهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، فَأَدِّهَا إِلَيْهِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 4504

کتاب: کسی کو ملنے والی ایسی چیز جس کے مالک کا پتہ نہ ہو کسی چیز کے) ڈھکنے (یا تھیلی) اور (اس کے) بندھن کی شناخت رکھنا اور گمشدہ بکری اور اونٹ کے بارے میں شریعت کا حکم مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا: مجھے ضحاک بن عثمان نے ابونضر سے حدیث بیان کی، انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (کسی کی) گری اور بھولی ہوئی چیز کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ایک سال اس کی تشہیر کرو، اگر اس کی شناخت نہ ہو پائے (کوئی اسے اپنی چیز کی حیثیت سے نہ پہچان سکے) تو اس کی تھیلی اور بندھن کی شناخت کر لو، پھر اسے کھاؤ (استعمال کرو)، پھر اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے اس کی ادائیگی کر دو