كِتَابُ اللُّقَطَةِ بَابُ مضعرِفَةِ العِفَاصِ وَالوِكَاءِوَ حَكَمِ ضَالَةش الغنَمَ وَالِابِلِ صحيح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَرَبِيعَةُ الرَّأْيِ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ، زَادَ رَبِيعَةُ: فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، وَزَادَ: فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا، وَعَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا، فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ
کتاب: کسی کو ملنے والی ایسی چیز جس کے مالک کا پتہ نہ ہو کسی چیز کے) ڈھکنے (یا تھیلی) اور (اس کے) بندھن کی شناخت رکھنا اور گمشدہ بکری اور اونٹ کے بارے میں شریعت کا حکم حماد بن مسلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے یحییٰ بن سعید اور ربیعہ رائے بن ابو عبدالرحمان نے منبعث کے مولیٰ یزید سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا۔ (اس روایت میں) ربیعہ نے اضافہ کیا: تو آپ غصے ہوئے حتی کہ آپ کے دونوں رخسار مبارک سرخ ہو گئے ۔۔ اور انہوں نے انہی کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور (آخر میں) یہ اضافہ کیا: "اگر اس کا مالک آ جائے اور اس کی تھیلی، (اندر جو تھا اس کی) تعداد اور اس کے بندھن کو جانتا ہو تو اسے دے دو ورنہ وہ تمہاری ہے