كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ بَابُ كَرَاهَةِ قَضَاءِ الْقَاضِي وَهُوَ غَضْبَانُ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: كَتَبَ أَبِي، وَكَتَبْتُ لَهُ إِلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، وَهُوَ قَاضٍ بِسِجِسْتَانَ، أَنْ لَا تَحْكُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحْكُمْ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ
کتاب: جھگڑو ں میں فیصلے کرنے کے طریقے اور آداب قاضی کے لیے غصے کی حالت میں فیصلہ کرنے کی نا پسندیدگی ابوعوانہ نے ہمیں عبدالملک بن عمیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے والد نے سجستان کے قاضی عبیداللہ بن ابی بکرہ کو خط لکھوایا ۔۔ اور میں نے لکھا ۔۔ کہ جب تم غصے کی حالت میں ہو، تو دو آدمیوں کے مابین فیصلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "کوئی شخص جب وہ غصے کی حالت میں ہو دو (انسانوں/فریقوں) کے مابین فیصلہ نہ کرے