كِتَابُ الْحُدُودِ بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ وَنِصَابِهَا صحيح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَمْ تُقْطَعْ يَدُ سَارِقٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَمَنِ الْمِجَنِّ، حَجَفَةٍ، أَوْ تُرْسٍ، وَكِلَاهُمَا ذُو ثَمَنٍ
کتاب: حدود کا بیان چوری کی حد اور اس کا نصاب محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا: حمید بن عبدالرحمان رؤاسی نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چور کا ہاتھ ڈھال سے کم مالیت میں نہیں کاٹا گیا، وہ چمڑے کی ڈھال ہو یا لوہے کی، یہ دونوں اچھی خاصی قیمت والی تھیں۔ (معمولی چیز میں نہیں کاٹا