صحيح مسلم - حدیث 4368

كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ صحيح حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا عَضَّ ذِرَاعَ رَجُلٍ فَجَذَبَهُ، فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبْطَلَهُ، وَقَالَ: «أَرَدْتَ أَنْ تَأْكُلَ لَحْمَهُ؟

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 4368

کتاب: قتل کی ذمہ داری کی تعیین کے لیے اجتماعی قسموںاور لوٹ ےمار کرنے والوں(کی سزا)قصاص اور دیت کے مسائل کسی انسان کی جان یا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو ‘جب وہ شخص جس پر حملہ کیا گیا ہےدور دھکیلے اور اس طرح اس کی جان یا کسی عضو کو ضائع کر دے تو اس ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے دوسرے کی کلائی کو دانتوں سے کاٹا، اس نے اسے کھینچا تو اس (کاٹنے والے) کا سامنے والا دانت گر گیا، یہ مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اس (نقصان) کو رائیگاں قرار دیا اور فرمایا: "کیا تم اس کا گوشت کھانا چاہتے تھے