صحيح مسلم - حدیث 4246

كِتَابُ النَّذْرِ بَابُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ الْعَبْدُ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِ حَمَّادٍ قَالَ: كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ، وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ، وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا، فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ، وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ: وَهِيَ نَاقَةٌ مُدَرَّبَةٌ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 4246

کتاب: نذر(منت ماننے )کے احکام و مسائل اللہ کی نا فرمانی میں نذر پوری کرنی جائز نہیں اور نہ اس چیز میں جو بندے کے اختیار میں نہیں ) حماد بن زید اور عبدالوہاب ثفقی دونوں نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی حدیث بیان کی، حماد کی حدیث میں ہے: انہوں نے کہا: عضباء اونٹنی بنو عقیل کے ایک آدمی کی تھی اور وہ حاجیوں کی سواریوں میں سب سے آگے رہنے والی اونٹنیوں میں سے تھی (تیز رفتار تھی۔) اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے: اور وہ (قیدی عورت) سدھائی ہوئی مَشاق اونٹنی پر (بیٹھ کر) آئی، اور ثقفی کی حدیث میں ہے: وہ سدھائی ہوئی اونٹنی تھی۔