كِتَابُ النَّذْرِ بَابُ النَّهْيِ عَنِ النَّذْرِ وَأَنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ النَّذْرَ لَا يُقَرِّبُ مِنِ ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ يَكُنِ اللهُ قَدَّرَهُ لَهُ، وَلَكِنِ النَّذْرُ يُوَافِقُ الْقَدَرَ، فَيُخْرَجُ بِذَلِكَ مِنَ الْبَخِيلِ مَا لَمْ يَكُنِ الْبَخِيلُ يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَ
کتاب: نذر(منت ماننے )کے احکام و مسائل نذر کی ممانعت اور یہ کسی چیز (مصیبت )کو نہیں ٹالتی اسماعیل بن جعفر نے ہمیں عمرو بن ابی عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمان اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "بلاشبہ نذر کسی چیز کو ابن آدم کے قریب نہیں کرتی، جو اللہ نے اس کے لیے مقدر نہیں کی، بلکہ نذر تقدیر کے ساتھ موافقت کرتی ہے، اس کے ذریعے سے بخیل سے وہ کچھ نکلوایا جاتا ہے جسے بخیل نکالنا نہیں چاہتا