كِتَابُ النَّذْرِ بَابُ النَّهْيِ عَنِ النَّذْرِ وَأَنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ: «إِنَّهُ لَا يَأْتِي بِخَيْرٍ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ
کتاب: نذر(منت ماننے )کے احکام و مسائل نذر کی ممانعت اور یہ کسی چیز (مصیبت )کو نہیں ٹالتی شعبہ نے ہمیں منصور سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے نذر سے منع کیا اور فرمایا: "بلاشبہ یہ کوئی خیر لے کر نہیں آتی، اس کے ذریعے سے تو بخیل سے (کچھ) نکلوایا جاتا ہے