صحيح مسلم - حدیث 4205
كِتَابُ الْوَصِيَّةِ بَابُ وَصِيَّةُ الرَّجُلِ مَكتُوبِةٌ عِندَهُ صحيح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، كِلَاهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا: «وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ»، وَلَمْ يَقُولَا: «يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ
ترجمہ الادب المفرد - حدیث 4205
کتاب: وصیت کے احکام ومسائل آدمی کی وصیت اس کے پاس لکھی ہو عبدہ بن سلیمان اور عبداللہ بن نمیر دونوں نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، البتہ ان دونوں نے کہا: "اس کے پاس (مال) ہو جس میں وصیت کرے (قابل وصیت مال ہو۔)" اور اس طرح نہیں کہا: "جس میں وصیت کرنا چاہتا ہو۔" (مفہوم وہی ہے، الفاظ کا فرق ہے