كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ بَابُ جَوَازِ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ مِنْ جِنْسِهِ مُتَفَاضِلًا صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَابْنُ رُمْحٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنِيهِ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِعْنِيهِ»، فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ: «أَعَبْدٌ هُوَ
کتاب: سیرابی کے عوض پیدوار میں حصہ داری اور مزارعت ایک جاندار کی اسی جنس کے جانور کے عوض کمی بیشی کےساتھ بیع جائز ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک غلام آیا، اس نے ہجرت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کی جبکہ آپ کو پتہ نہیں چلا کہ وہ غلام ہے۔ اس کا آقا اسے لینے کے لیے آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: "یہ مجھے فروخت کر دو۔" چنانچہ آپ نے دو سیاہ غلاموں کے عوض اسے خرید لیا، پھر اس کے بعد آپ کسی سے بیعت نہ لیتے تھے یہاں تک کہ (پہلے) پوچھ لیتے: "کیا وہ غلام ہے؟"