صحيح مسلم - حدیث 4108

كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ بَابُ مَنِ اسْتَسْلَفَ شَيْئًا فَقَضَى خَيْرًا مِنْهُ، وَخَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً صحيح حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا، فَقَدِمَتْ عَلَيْهِ إِبِلٌ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَ أَبَا رَافِعٍ أَنْ يَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ أَبُو رَافِعٍ، فَقَالَ: لَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا خِيَارًا رَبَاعِيًا، فَقَالَ: «أَعْطِهِ إِيَّاهُ، إِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً»،

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 4108

کتاب: سیرابی کے عوض پیدوار میں حصہ داری اور مزارعت نور ادھار لینا جائز ہے اور جو کسی کے ذمے ہے اس سے بہتر (جانور )دینا مستحب ہے امام مالک بن انس نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے بعد میں ادائیگی (سلف) کے عوض ایک نو عمر اونٹ لیا، آپ کے پاس زکاۃ کے اونٹ آئے تو آپ نے حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اس آدمی کو اس کے نو عمر اونٹ کی ادائیگی کر دیں۔ حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ لوٹ کر آپ کے پاس آئے اور عرض کی: میں نے تو (آئے ہوئے) ان اونٹوں میں ساتویں سال کا بہت اچھا اونٹ ہی پایا ہے۔ تو آپ نے فرمایا: "اسے وہی دے دو، لوگوں میں سے بہترین وہ ہے جو ادا کرنے میں بہترین ہو۔"