كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا، إِلَّا كَلْبَ زَرْعٍ، أَوْ غَنَمٍ، أَوْ صَيْدٍ، يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ
کتاب: سیرابی کے عوض پیدوار میں حصہ داری اور مزارعت کتوں کو مارڈالنے کا حکم (پھر )اس کے منسوخ ہونے کی وضاحت اور اس بات کی وضاحت کہ شکار کےلیے اور کھیتی یا جانور وں کی حفاظت اور اسی طرح کے کسی کام کے سوا انھیں پالنا حرام ہے ابوحکم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے، آپ نے فرمایا: "جس نے کھیتی یا بکریوں (کی حفاظت) یا شکار کے کتے کے سوا کتا رکھا اس کے اجر میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا۔"