كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ بَابُ مَنْ أَدْرَكَ مَا بَاعَهُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي وَقَدْ أَفْلَسَ فَلَهُ الرُّجُوعُ فِيهِ صحيح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ حَجَّاجٌ: مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ، فَوَجَدَ الرَّجُلُ عِنْدَهُ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا»
کتاب: سیرابی کے عوض پیدوار میں حصہ داری اور مزارعت جس نے اپنا فروخت کیا ہوا ما ل خریدار کے پاس پایا اور وہ (خریدار )مفلس ہو چکا ہے تو اس چیز کو واپس لینے کا حق اسی کا ہے عراک بن مالک نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب کوئی آدمی مفلس قرار دیا جائے اور (کسی بیچنےوالے) شخص کو اس کے ہاں اپنا سامان جوں کا توں مل جائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔"