كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ بَابُ مَنْ أَدْرَكَ مَا بَاعَهُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي وَقَدْ أَفْلَسَ فَلَهُ الرُّجُوعُ فِيهِ صحيح حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَهُوَ ابْنُ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَهُ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الرَّجُلِ الَّذِي يُعْدِمُ، إِذَا وُجِدَ عِنْدَهُ الْمَتَاعُ، وَلَمْ يُفَرِّقْهُ: «أَنَّهُ لِصَاحِبِهِ الَّذِي بَاعَهُ»
کتاب: سیرابی کے عوض پیدوار میں حصہ داری اور مزارعت جس نے اپنا فروخت کیا ہوا ما ل خریدار کے پاس پایا اور وہ (خریدار )مفلس ہو چکا ہے تو اس چیز کو واپس لینے کا حق اسی کا ہے ابن ابی حسین نے مجھے حدیث بیان کی کہ انہیں ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے خبر دی کہ انہیں عمر بن عبدالعزیز نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کی (روایت کردہ) حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی (روایت کردہ) حدیث بیان کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں روایت کی جو کنگال ہو جائے، جب اس کے پاس سامان ملے اور اس نے اس میں تصرف نہ کیا ہو، (فرمایا: ) "تو وہ اس کے مالک کا ہے، جس نے اسے فروخت کیا تھا