كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ بَابُ وَضْعِ الْجَوَائِحِ صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ»، فَقُلْنَا لِأَنَسٍ: مَا زَهْوُهَا؟ قَالَ: «تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ، أَرَأَيْتَكَ إِنْ مَنَعَ اللهُ الثَّمَرَةَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ
کتاب: سیرابی کے عوض پیدوار میں حصہ داری اور مزارعت قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کی تلافی کرنا اسماعیل بن جعفر نے حمید سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگ بدلنے تک کھجور کا پھل بیچنے سے منع فرمایا۔ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اس کے رنگ بدلنے (زھو) سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: وہ سرخ ہو جائے اور زرد ہو جائے، تمہاری کیا رائے ہے اگر اللہ تعالیٰ نے پھل روک دیا، تو تم کس بنیاد پر اپنے بھائی کا مال اپنے لیے حلال سمجھو گے