صحيح مسلم - حدیث 3899

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إِنْ كَانَتْ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا، وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا، وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ، نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ»، وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ: أَوْ كَانَ زَرْعًا،

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 3899

کتاب: لین دین کے مسائل عرایا کے سوا تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض بیچنا حرام ہے قتیبہ بن سعید اور محمد بن رُمح نے لیث سے حدیث بیان کی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا (مزابنہ یہ ہے) کہ کوئی آدمی اپنے باغ کا پھل اگر کھجور ہو تو خشک کھجور کے مقررہ ماپ کے عوض فروخت کرے اور اگر انگور ہو تو منقیٰ کے مقررہ ماپ کے عوض فروخت کرے اور اگر کھیتی ہو تو غلے کے مقررہ ماپ کے عوض اسے فروخت کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب (سودوں) سے منع فرمایا۔ قتیبہ کی روایت میں (وان کان زرعا "اور اگر کھیتی ہو" کے بجائے) "یا کھیتی ہو" کے الفاظ ہیں۔