كِتَابُ الْبُيُوعِ بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا صحيح حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ»، " وَالْمُزَابَنَةُ: بَيْعُ ثَمَرِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْعِنَبِ كَيْلًا، وَعَنْ كُلِّ ثَمَرٍ بِخَرْصِهِ
کتاب: لین دین کے مسائل عرایا کے سوا تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض بیچنا حرام ہے ابو اسامہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے (تازہ) پھل کو خشک کھجور کے ماپ کی مقررہ مقدار کے عوض اور انگور کو منقیٰ کے ماپ کی مقررہ مقدار کے عوض فروخت کیا جائے اور کسی بھی پھل کو اندازے کی بنیاد پر (اسی طرح) فروخت کرنے سے منع فرمایا