كِتَابُ الْبُيُوعِ بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ: حَدَّثَكَ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، أَوْ فِي خَمْسَةِ»، يَشُكُّ دَاوُدُ، قَالَ: خَمْسَةٌ أَوْ دُونَ خَمْسَةٍ، قَالَ: نَعَمْ
کتاب: لین دین کے مسائل عرایا کے سوا تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض بیچنا حرام ہے یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک سے پوچھا: کیا آپ کو داود بن حصین نے ابن ابی احمد کے آزاد کردہ غلام ابوسفیان (وہب) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کو پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک اندازے سے بیچنے کی رخصت دی ہے؟ ۔۔ (امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: ) شک داود کو ہے کہ انہوں (ابوسفیان) نے پانچ وسق کہا یا پانچ وسق سے کم کہا ۔۔ تو انہوں (امام مالک) نے جواب دیا: ہاں