كِتَابُ الْبُيُوعِ بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، حَدَّثَاهُ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا، فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ
کتاب: لین دین کے مسائل عرایا کے سوا تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض بیچنا حرام ہے ولید بن کثیر نے کہا: مجھے بنو حارثہ کے مولیٰ بشیر بن یسار نے حدیث بیان کی کہ رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ دونوں نے اسے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ، یعنی تازہ کھجور کی خشک کھجور کے عوض بیع سے منع فرمایا، سوائے عرایا والوں کے کیونکہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی