كِتَابُ الْبُيُوعِ بَابُ بُطْلَانِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ»، فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ؟ فَقَالَ: «أَلَا تُرَاهُمْ يَتَبَايَعُونَ بِالذَّهَبِ وَالطَّعَامُ مُرْجَأٌ»، وَلَمْ يَقُلْ أَبُو كُرَيْبٍ: مُرْجَأٌ
کتاب: لین دین کے مسائل خریدے گئے سامان کو قبضے میں لینے سے پہلے آگے بیچنا باطل ہے ابوبکر بن ابی شیبہ، ابو کُرَیب اور اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں حدیث بیان کی ۔۔ اسحاق نے کہا: ہمیں خبر دی اور دیگر نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی ۔۔ وکیع نے سفیان سے، انہوں نے ابن طاوس سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو غلہ خریدے تو اسے آگے فروخت نہ کرے حتی کہ اسے ماپ (کر قبضے میں لے) لے