كِتَابُ الْعِتْقِ بَابُ تَحْرِيمِ تَوَلِّي الْعَتِيقِ غَيْرَ مَوَالِيهِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ
کتاب: غلامی سے آزادی کا بیان آزاد کیے جانے والیے کی طرف سے اپنے موالی (آزاد کرنے والوں )کےسواکسی اور کی طرف نسبت اختیار کرنا حرام ہے زائدہ نے سلیمان (اعمش) سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "جس نے اپنے آزاد کرنے والوں کی اجازت کے بغیر کسی (دوسری) قوم کی ولاء اختیار کی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اور قیامت کے دن اس سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کوئی سفارش